30 جولائی، 2026، 11:08 AM

مہر نیوز کی خصوصی رپورٹ:

مشرق وسطی میں کشیدگی کی نئی لہر، مزاحمتی محاذ مکمل تیار، مشترکہ لائحہ عمل طے

مشرق وسطی میں کشیدگی کی نئی لہر، مزاحمتی محاذ مکمل تیار، مشترکہ لائحہ عمل طے

یمن، لبنان اور عراق کی مزاحمتی قوتوں کا کہنا ہے کہ "وحدتِ محاذ" کی حکمت عملی کے تحت کسی بھی نئی جارحیت کا مشترکہ انداز میں مقابلہ کیا جائے گا۔

مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھر غیر معمولی سیاسی اور عسکری کشیدگی کے دور سے گزر رہا ہے۔ غزہ کی جنگ، لبنان کی جنوبی سرحد پر جاری تناؤ، یمن میں انصار اللہ کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں اور عراق میں مزاحمتی گروہوں پر دباؤ نے خطے کی مجموعی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایسے حالات میں مزاحمتی محاذ پہلے سے زیادہ فعال اور منظم دکھائی دے رہا ہے، جبکہ اس کے مختلف ارکان مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے کے لیے باہمی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی ناگزیر ہے۔

مزاحمتی محاذ محض ایک عسکری اتحاد نہیں بلکہ ایک ایسا فکری، عوامی اور نظریاتی محاذ ہے، جس کی بنیاد کئی دہائیوں پر محیط سامراجی مداخلت، صہیونی قبضے اور خطے کے عوام کی مزاحمتی جدوجہد پر استوار ہے۔ اسلامی انقلابِ ایران، لبنان میں حزب اللہ کی مزاحمت، عراق میں داعش کے خلاف حشد الشعبی کا کردار اور یمن میں انصار اللہ کی استقامت نے اس محور کو ایک ایسے مشترکہ ڈھانچے میں تبدیل کر دیا ہے، جس کے مختلف ارکان اپنے اپنے جغرافیائی دائرہ کار میں سرگرم رہتے ہوئے ایک دوسرے کی حمایت کو اپنی بنیادی حکمت عملی سمجھتے ہیں۔

حالیہ برسوں میں "وحدتِ محاذ" کی حکمت عملی اس محور کی سب سے نمایاں خصوصیت بن کر سامنے آئی ہے۔ اس تصور کے مطابق اگر مزاحمتی محاذ کے کسی ایک رکن کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو دیگر قوتیں بھی اپنے اپنے میدان میں ردعمل دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں، تاکہ دباؤ صرف ایک محاذ تک محدود نہ رہے۔ اسی حکمت عملی کو خطے میں مزاحمتی قوتوں کے درمیان بڑھتے ہوئے رابطوں اور ہم آہنگی کی بنیاد قرار دیا جا رہا ہے۔

یمن کا مؤثر کردار

انصار اللہ یمن نے برسوں کی جنگ، محاصرے اور مسلسل فضائی حملوں کے باوجود نہ صرف اپنی عسکری صلاحیت برقرار رکھی بلکہ اپنی دفاعی حکمت عملی کو بھی مزید مؤثر بنایا ہے۔ حالیہ عرصے میں سعودی عرب کے ابہا ایئرپورٹ پر حملے کو صنعاء ایئرپورٹ پر حملے کا براہِ راست جواب قرار دیا جا رہا ہے، جسے "ایئرپورٹ کے بدلے ایئرپورٹ" کی حکمت عملی کا عملی اظہار بتایا گیا۔

صعدہ میں بڑے عوامی اجتماعات، رضاکاروں کی تیاری اور مسلسل عوامی حمایت کو بھی آئندہ مرحلوں کے لیے اہم اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ انصار اللہ کی قیادت کا مؤقف ہے کہ جنگ صرف عسکری محاذ پر نہیں بلکہ عوامی استقامت اور سیاسی عزم سے بھی لڑی جاتی ہے، اور یہی عنصر یمن کو گزشتہ برسوں میں قائم رکھنے کا سبب بنا۔

باب المندب کی آبی گزرگاہ، جہاں سے دنیا کی سمندری تجارت کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے، بدستور یمن کی اہم تزویراتی برتری سمجھی جاتی ہے۔ اس آبی راستے کی اہمیت کے باعث یمن کی ہر عسکری یا سیاسی پیش رفت عالمی سطح پر بھی توجہ حاصل کرتی ہے۔ انصار اللہ بارہا اس بات کا عندیہ دے چکی ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھی تو وہ اپنے پاس موجود تمام دفاعی اور تزویراتی ذرائع استعمال کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

اسی تناظر میں انصار اللہ کی جانب سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی تیل کی تنصیبات کے علاوہ قطر کے العدید اور کویت کے علی السالم فوجی اڈوں کا ذکر بھی کیا گیا ہے، جسے مبصرین خطے میں اس کی دفاعی حکمت عملی کا حصہ قرار دیتے ہیں۔

غیر مسلح کرنے کی کوششیں اور حزب اللہ کا دوٹوک مؤقف

لبنان میں سیاسی اور بین الاقوامی دباؤ کے باوجود حزب اللہ نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنے ہتھیار نہیں ڈالے گی اور مزاحمت کو ملکی دفاع کے لیے ناگزیر سمجھتی ہے۔ لبنانی حکومت کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ طے پانے والے فریم ورک معاہدے کو حزب اللہ مسترد کرتی ہے اور اسے "ہتھیار ڈالنے کا معاہدہ" قرار دیتی ہے۔ تنظیم کا مؤقف ہے کہ جب تک اسرائیل کی جانب سے خطرات برقرار ہیں، مزاحمت بھی لبنان کی قومی سلامتی کا ایک بنیادی ستون رہے گی۔

حزب اللہ کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ نہ حکومتی دباؤ، نہ بیرونی مداخلت اور نہ ہی مزاحمت کو غیر قانونی قرار دینے کی کوششیں ان کے مؤقف میں کوئی تبدیلی لا سکتی ہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ کئی دہائیوں کے تجربات نے ثابت کیا ہے کہ مزاحمت ہی لبنان کے دفاع کی مؤثر ضمانت رہی ہے۔ اسی لیے تنظیم اپنے عسکری ڈھانچے کو کسی سیاسی مفاہمت کا حصہ بنانے کے بجائے قومی دفاعی حکمت عملی کا لازمی جزو قرار دیتی ہے۔

لبنان کی موجودہ سیاسی صورتحال میں مزاحمت کے مستقبل پر بحث ضرور جاری ہے، تاہم حزب اللہ کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ تنظیم مستقبل کی ممکنہ علاقائی پیش رفت کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی عسکری اور تنظیمی تیاری برقرار رکھنا چاہتی ہے۔

عراقی مزاحمت کا عزم

عراق میں بھی مزاحمتی گروہوں پر ہتھیار ڈالنے اور انہیں ریاستی اداروں میں ضم کرنے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے، تاہم ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ داعش کے خلاف جنگ نے ثابت کر دیا کہ ملک کے دفاع میں ان کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق اگر اس دور میں مزاحمتی قوتیں میدان میں نہ ہوتیں تو عراق کو کہیں زیادہ سنگین سکیورٹی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا۔

سید الشہداء بریگیڈ سمیت مختلف مزاحمتی گروہوں کے رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ سرکاری عہدوں یا سیاسی مفادات کے بدلے ہتھیار ڈالنا قوم کے ساتھ غداری کے مترادف ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ مزاحمتی قوتوں کا مقصد اقتدار حاصل کرنا نہیں بلکہ ملکی خودمختاری اور قومی سلامتی کا دفاع ہے۔

دوسری جانب کتائب حزب اللہ عراق نے بھی اعلان کیا ہے کہ اگر ایران کے خلاف دوبارہ جنگ شروع ہوئی تو وہ ایران کی حمایت کرے گی، کیونکہ ان کے بقول یہ فیصلہ سیاسی مفادات کے بجائے عقیدے اور مشترکہ مزاحمتی نظریے پر مبنی ہے۔ عراق کی مزاحمتی تنظیمیں اس بات پر زور دیتی ہیں کہ خطے کے مختلف محاذ ایک دوسرے سے الگ نہیں، بلکہ ایک مشترکہ سکیورٹی ماحول کا حصہ ہیں۔

مشترکہ حکمت عملی

مزاحمتی محاذ کی اصل طاقت صرف اس کی عسکری صلاحیت نہیں بلکہ مختلف ممالک کے درمیان موجود مشترکہ نظریاتی، سیاسی اور عوامی رشتہ ہے، جسے "وحدتِ محاذ" کی حکمت عملی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت خطے کی مزاحمتی تنظیمیں ایک دوسرے کے دفاع کو اپنی مشترکہ ذمہ داری سمجھتی ہیں اور کسی بھی نئی کشیدگی کی صورت میں مربوط ردعمل کو ترجیح دیتی ہیں۔

اس حکمت عملی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ہر تنظیم اپنے جغرافیائی حالات اور صلاحیتوں کے مطابق کردار ادا کرتی ہے، تاہم مجموعی ہدف ایک ہی رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ عرصے میں مختلف مزاحمتی قوتوں کے بیانات میں مشترکہ مؤقف اور ہم آہنگی پہلے کے مقابلے میں زیادہ نمایاں دکھائی دیتی ہے۔

مستقبل کا منظرنامہ

موجودہ علاقائی حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کا خاتمہ فی الحال آسان دکھائی نہیں دیتا۔ ایسے ماحول میں مزاحمتی محاذ پہلے سے زیادہ منظم اور ہم آہنگ نظر آ رہا ہے۔ اس کے مختلف ارکان کا مؤقف ہے کہ اگر خطے میں دوبارہ جنگ یا نئی جارحیت کی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو اس کا جواب انفرادی طور پر نہیں بلکہ مشترکہ حکمت عملی کے تحت دیا جائے گا۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یمن، لبنان اور عراق میں مزاحمتی قوتوں کے حالیہ بیانات اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ "وحدتِ محاذ" اب محض ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ایک عملی حکمت عملی کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ اسی بنیاد پر مزاحمتی محاذ آئندہ مرحلے میں بھی خطے کی سکیورٹی اور سیاسی صورتحال میں ایک اہم کردار ادا کرنے کے لیے خود کو تیار قرار دے رہا ہے۔

News ID 1940483

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha